راولپنڈی . . . سپریم کورٹ بار کے نو منتخب صدر قاضی انور محمود نے خبردار کیا ہے کہ عدلیہ کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ غلط کام کرنے والے حکمرانوں کا محاسبہ بھی کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی ایسے آرڈیننس کو قانون کا نام دینے کو تیار نہیں جس سے کرپشن کو تحفظ ملے ۔وہ ہائی کورٹ بار راولپنڈی میں تین نومبر 2007 کو ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف یوم سیاہ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔صدر سپریم کورٹ بار قاضی انور محمود نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ اگر این آر او کو قانونی شکل دی گئی تو ہمارے پاس آپشن کھلے ہیں جن کے تحت آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 31 اکتوبر کو چیف جسٹس کی ذات کو اسیکنڈلائز کرکے عدلیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی۔ ممبر پاکستان بار کونسل حامد خان نے کہا کہ جو قوم اپنے المیے کے دن بھلا دیتی ہے ایسے المیے پھر اس کا مقدر بن جاتے ہیں۔تقریب میں ایک قرار داد بھی پیش کی گئی کہ مستقبل میں آزاد عدلیہ کے خلاف کسی بھی سازش کا عدلیہ کے ججوں کے ساتھ مل کر مقابلہ کیا جائے گا۔قرارداد کو اکثریرت سے منظور کر لیا گیا،جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے تین ججوں نے بھی ہاتھ کھڑے کرکے قرارداد کی حمایت کی۔اس سے قبل ہائیکورٹ بار کی عمارت پر سیاہ پرچم لہرایا گیا اور وکلا نے بازؤوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا۔