اسلام آباد . . . قومی اسمبلی میں آج ارکان نے سابق صدر پرویز مشرف کے تین نومبر کے ایمرجنسی اقدام پر شدید تنقید کی جبکہ سابق حکمران جماعت مسلم لیگ قاف کے رکن امیر مقام نے آئندہ کسی آمر کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں سابق دور کی ایمرجنسی کے خلاف یوم سیاہ کی مناسبت سے وزیراعظم اور دیگر ارکان بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر شریک ہوئے ، وفاقی وزیرخورشید شاہ نے کہا کہ سابق آمر نے طاقت کے بل بوتے پر عوام کے فیصلے کو سبوتاژ کیا ،، چوہدری نثار علی نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے فیصلوں کا پاس کرنا ہے تو حکومت میثاق جمہوریت پر عمل کرے ،، مسلم لیگ قاف کے رکن امیر مقام نے کہا کہ ہم عہد کرتے ہیں کسی آمر کی حمایت نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ آج قوم سوال کر رہی ہے کہ ڈکٹیٹر کے جانے سے اور جمہوریت کے آنے سے کیا تبدیلی آئی، ماروی میمن نے اظہار خیال کرتے ہوئے سول آمریت پر بھی بحث کا مطالبہ کیا جبکہ وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید کی دانشمندی کی وجہ سے صدر مشرف وردی اتارنے پر مجبور ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں لکھا گیا ہے کہ کوئی جمہوریت کو کمزور کرنے میں کردار ادا نہیں کرے گا،، ایک موقع پر وضاحت کرتے ہوئے اسپیکر اسمبلی فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ انہوں نے یا ان کے شوہر نے این آر او سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور گیارہ سال تک مقدمات کا سامنا کیا ، بعد میں اسمبلی کا اجلاس کل شام چار بجے تک کے لئے ملتوی کردیا گیا۔