واشنگٹن . . . سمیع ابراہیم . . . امریکی صدر کے خصوصی نمائندے برائے پاکستان اور افغانستان رچرڈ ہالبروک نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان کی موجودہ داخلی سیاسی صورت حال سولہ مارچ جیسا ماحول پیدا نہیں کرے گی، جب امریکی اعلیٰ حکام کو پاکستانی قیادت کو فون کرنے کی ضرورت پیش آئی ۔ہالبروک کا کہنا ہے کہ کیری لوگر بل کے مخالفین در حقیقت طالبان کی مدد کر رہے ہیں۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں جیو کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا کبھی بھی کسی ایک راستے کا انتخاب نہیں کرتا بلکہ وہ ہمیشہ آئینی طور پر منتخب حکومت کی قیادت کی حمایت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہلیری کلنٹن کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران این آر او کا مسئلہ زیادہ زیر بحث نہیں آیا لیکن امریکی حکام اس سے مکمل آگاہ تھے۔ ان کا کہناتھا کہ”پاکستانی اپنی خود مختاری کے معاملات میں بہت حسا س ہیں لہٰذا اس بارے میں مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے“۔اس سوال پر کہ این آر او کی وجہ سے بہت سے ایسے واقعات اور حالات پیدا ہوسکتے ہیں کہ امریکا کو ان سے نمٹنے کیلئے فون کرنا پڑے،جس پر ہالبروک نے کہا کہ ایسی نوبت نہیں آئے گی، لیکن حالات کو دیکھیں گے کہ صورت حال کیا پیش آتی ہے۔ ہم استحکام، جمہوریت اور سرگرم قیادت میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ لوگ اور ادارے نظام کے تحت کام کریں ، انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں سولہ مارچ کے واقعات میں زبردستی لایا گیا تھا۔ کیونکہ عدلیہ کا مسئلہ گلیوں میں احتجاج کی صورت اختیار گیاتھا اور خیال کیا گیا تھاکہ ہماری مداخلت اور فون سے اس مسئلے کے حل میں مدد مل سکتی ہے،ہم نے کسی خاص مقصد کی کبھی بھی حمایت نہیں کی۔ ہالبروک نے کہا کہ حکومت پاکستان عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے ۔پاکستانی فوج کا ہر فرد اپنے مقصد سے بخوبی آگاہ ہے۔ہالبروک کا کہنا تھا کہ اشفاق پرویز کیانی اور جنرل پاشا نے اسلام آباد کے اجلاس میں ہلیری کلنٹن سے کہا تھا کہ ہم اس دہشت گردی کے خلاف آپ کی طرح عمل پیرا ہیں،انہوں نے کہا کہ وزیرستان کا آپریشن درست سمت میں جارہا ہے اور ہمیں پاکستان آرمی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔ بھارت کی قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں مداخلت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے اجلاس میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا اورامریکی حکام پاکستانی تشویش سے مکمل آگاہ ہیں،ہلیری کا دورہ پاکستان بہت یادگار اور اہمیت کا حامل رہا۔ہلیری کے دورے کے بعد کیری لوگر بل کے مخالفین کے موقف میں لچک کے سوال پر کہا کہ وہ نہیں جانتے کیونکہ مخالفت کرنے والے کیری لوگر بل کو نہیں سمجھتے ،اس بل نے پاکستان پر کسی قسم کوئی شرط عائد نہیں کی پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے مخالف اس بل کو پاکستان پر حملہ تصور کرتے ہیں،انہوں نے کہا کیری لوگر بل کی مخالفت کرنے والے موجودہ حکومت کے مخالف ہیں یا طالبان کے حامی ہیں۔