اسلام آباد…ہائی کورٹ کے دو ججوں نے توہین عدالت نوٹس کیس میں انٹراکورٹ اپیلیں دائر کردی ہیں جس پر سپریم کورٹ نے ان اپیلوں پر فیصلے تک توہین عدالت نوٹس کے مقدمہ کی سماعت ملتوی کردی ۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے ججوں کے خلاف توہین عدالت نوٹسز کے مقدمہ کی آج سماعت شروع کی تو حاضرسروس ججوں کے خلاف نوٹسز کا معاملہ زیرسماعت آیا، عدالت کو بتایا گیا کہ مقدمہ کے فریق جسٹس حسنات احمد اور جسٹس شبر رضا نے اپنے خلاف توہین عدالت نوٹس معطل کرانے کے لئے انٹراکورٹ اپیل دائر کردی ہے ، اس سے پہلے سماعت کے دوران سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس افتخار حسین چوہدری کے وکیل خالد رانجھا نے کہا کہ ان کے موکل کی پنشن اور مراعات روک دی گئی ہیں ، اس پر عدالت نے کہا کہ پنشن اور مراعات رکنا سنجیدہ معاملہ ہے جس کا نوٹس لیا جائے گا ، جسٹس شبر رضا کے وکیل ڈاکٹر عبدالباسط نے ابتدائی دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ جج کو توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں ہوسکتا اور جج کو صرف آرٹیکل 209 کے تحت ہی ہٹایا جاسکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ اس کیس کے باعث عوام میں ججوں سے متعلق تاثر مجروح ہورہا ہے ، بنچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ایک موقع پر ریمارکس میں کہا کہ ہم تین نومبر کے واقعات کو بھلا چکے ہیں ، بعد میں عدالت نے دو ججوں کی انٹراکورٹ اپیلوں کی پہلے سماعت مکمل کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے توہین عدالت نوٹس کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی ۔