اسلام آباد…صدارتی ترجمان کی جانب سے قومی مصالحتی آرڈیننس کومنظوری کیلئے قومی اسمبلی میں پیش نہ کرنے کے اعلان کے بعد این آراو کو قانونی تحفظ ملنے کاباب بندہوگیاہے تاہم اس آرڈیننس سے ریلیف لینے والے افراد کامستقبل کیاہوگا،اس حوالے سے ماہرین کا کہناہے کہ این آر او کو آئینی تحفظ دینے کے لئے مقررکردہ ایک سو بیس دن کی مہلت ختم ہونے کے بعد اس آرڈیننس کے تحت ریلیف لینے والے افراد کے خلاف مقدمات قانونی طور پربحال ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ دوسواننچاس اے اور دو سو پینسٹھ کے تحت ریلیف لینے والے افراد کے خلاف بھی کیسز بحال ہو جائیں گے، یہ وہ افرادتھے جنہوں نے اپنے کیسزتوضابطہ فوجداری کی دفعات کے تحت ختم کرائے تھے تاہم اس کی اساس این آراوتھی۔ آئینی ماہرین کے مطابق اگرچہ اکتیس جولائی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ سے منظوری نہ ہونے کی صورت میں آرڈیننس کی موت واقع ہو جائے گی تاہم یہ معاملہ مزیدوضاحت کے لیے سپریم کورٹ میں ایک بار پھر زیر بحث آنے کا امکان ہے اور اس حوالے سے بعض انفرادی کیس خصوصی اہمیت کے حامل ہوں گے۔قانون دانوں کاکہناہے کہ اگرچہ صدرآصف علی زرداری کو اپنے عہدے کے باعث آئینی تحفظ حاصل ہے اوران کے خلاف مقدمات عدالتوں میں نہیں چلائے جا سکتے تاہم انہیں اخلاقی دباؤ کا سامنا کرناہوگااورعہدے کی مدت ختم ہونے پرانہیں مقدمات کاسامناکرناپڑے گاجبکہ کابینہ ارکان کوآئینی تحفظ حاصل نہ ہونے کے باعث اپنی بے گاہی عدالتوں میں ثابت کرناپڑے گی ۔